اختیار، اعتماد اور بچوں کے تحفظ کا غلط استعمال (حصہ اول)
Loading
Criminal law

اختیار، اعتماد اور بچوں کے تحفظ کا غلط استعمال (حصہ اول)

Updated on 5 جولائی، 2026

Article languageاردو
تعارف
 
روزمرہ زندگی میں بعض اوقات ایسے رویے سامنے آتے ہیں جو کچھ لوگوں کے نزدیک “سادہ” یا “عام” سمجھے جاتے ہیں، لیکن جرمنی کے قانون میں یہی اعمال جرم قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم جنسی ہراسانی اور کسی بھی قسم کا جنسی رویہ ہے جو دوسرے فریق کی رضامندی کے بغیر انجام دیا جائے۔
 
جرمنی کے فوجداری قانون (Strafgesetzbuch – StGB) میں دفعہ 174 سے 184i تک جنسی جرائم کے لیے مخصوص ہیں۔ اس حصے کو کہا جاتا ہے:
جنسی خود ارادیت کے حق کے خلاف جرائم
(Straftaten gegen die sexuelle Selbstbestimmung)
 
یہ موضوع خاص طور پر ان افراد کے لیے بہت اہم ہے جو کنڈرگارٹن، اسکولوں، طبی اداروں یا مشاورتی مراکز میں کام کرتے ہیں، کیونکہ قانون ان کے لیے زیادہ ذمہ داریاں اور سخت پابندیاں مقرر کرتا ہے۔
 
 
حصہ اول: اختیار اور اعتماد کا غلط استعمال
 
§ 174 StGB – زیرِ سرپرستی افراد کے ساتھ جنسی استحصال
 
قانونی متن (جرمن زبان میں):
 
„(1) Wer sexuelle Handlungen an einer Person unter achtzehn Jahren vornimmt, die ihm zur Erziehung, Ausbildung oder Betreuung in der Lebensführung anvertraut ist, oder an sich von ihr vornehmen lässt, wird mit Freiheitsstrafe von drei Monaten bis zu fünf Jahren bestraft.
(2) Ebenso wird bestraft, wer sexuelle Handlungen an einer Person unter achtzehn Jahren vornimmt oder an sich von ihr vornehmen lässt, die ihm im Rahmen eines Dienst- oder Arbeitsverhältnisses untergeordnet ist.
(3) Der Versuch ist strafbar.“
 
 
ترجمہ:
 
(1) جو شخص 18 سال سے کم عمر فرد کے ساتھ، جسے اس کی تربیت، تعلیم یا نگہداشت کے لیے اس کے سپرد کیا گیا ہو، جنسی عمل کرے یا اسے اپنے ساتھ ایسا عمل کرنے دے، اسے تین ماہ سے پانچ سال تک قید کی سزا دی جائے گی۔
 
(2) اسی طرح سزا اس صورت میں بھی دی جائے گی اگر یہ عمل کسی ملازمت یا سروس کے تعلق میں ماتحتی کی حالت میں کیا جائے۔
 
(3) اس جرم کی کوشش بھی قابلِ سزا ہے۔
 
 
وضاحت:
 
اگر آپ ایک استاد، تربیت کار یا کم عمر افراد کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں،
تو آپ کی نگرانی میں موجود کسی فرد کے ساتھ کسی بھی قسم کا جنسی تعلق یا رویہ جرم ہے—چاہے وہ فرد بظاہر رضامند ہی کیوں نہ ہو۔
 
 
§ 174c StGB – علاج یا مشاورت کے تعلق میں جنسی استحصال
 
قانونی متن (جرمن زبان میں):
 
„Wer sexuelle Handlungen an einer Person vornimmt oder von ihr vornehmen lässt, die ihm wegen einer Beratung, Behandlung oder Betreuung anvertraut ist, und dabei die sich aus diesem Verhältnis ergebende Abhängigkeit ausnutzt, wird mit Freiheitsstrafe bis zu fünf Jahren oder mit Geldstrafe bestraft.“
 
 
ترجمہ:
 
جو شخص کسی ایسے فرد کے ساتھ جنسی عمل کرے جو مشاورت، علاج یا دیکھ بھال کے لیے اس کے پاس آیا ہو، اور اس تعلق سے پیدا ہونے والی وابستگی کا ناجائز فائدہ اٹھائے، اسے پانچ سال تک قید یا جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔
 
 
سادہ وضاحت:
 
وہ افراد جو طبی، مشاورتی یا نگہداشت کے شعبوں میں کام کرتے ہیں، اگر وہ اپنے مریضوں یا مراجعین کے ساتھ جنسی تعلق قائم کریں تو یہ قانوناً جرم ہو سکتا ہے۔
 
یہ دفعہ عام طور پر اس وقت لاگو ہوتی ہے جب متاثرہ شخص شکایت کرے اور یہ ثابت ہو کہ سروس فراہم کرنے والے نے جنسی تعلق کی پیشکش کی یا اس کی کوشش کی۔
 
 
حصہ دوم: بچے (بہت اہم)
 
§ 176 StGB – بچوں کے ساتھ جنسی استحصال
 
قانونی متن (جرمن زبان میں):
 
„(1) Wer sexuelle Handlungen an einer Person unter vierzehn Jahren vornimmt oder an sich von ihr vornehmen lässt, wird mit Freiheitsstrafe von sechs Monaten bis zu zehn Jahren bestraft.
(2) Ebenso wird bestraft, wer eine Person unter vierzehn Jahren dazu bestimmt, sexuelle Handlungen an sich vorzunehmen.“
 
 
ترجمہ:
 
(1) جو شخص 14 سال سے کم عمر بچے کے ساتھ جنسی عمل کرے یا اسے اپنے ساتھ ایسا عمل کرنے دے، اسے چھ ماہ سے دس سال تک قید کی سزا دی جائے گی۔
 
(2) اسی طرح وہ شخص بھی سزا کا مستحق ہوگا جو 14 سال سے کم عمر بچے کو اپنے ساتھ جنسی عمل کرنے پر آمادہ یا مجبور کرے۔
 
 
وضاحت:
 
یہ قانون ہر شخص پر لاگو ہوتا ہے۔
یعنی اگر ایک 15 سالہ نوجوان بھی 14 سال سے کم عمر بچے کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی کوشش کرے، تو اسے بھی اسی قانون کے تحت سزا دی جا سکتی ہے۔
 
 
حصہ اول کا خلاصہ
 
پیشہ ورانہ حیثیت یا دوسروں کے اعتماد کا غلط استعمال ایک جرم ہے۔
 
14 سال سے کم عمر بچے مکمل قانونی تحفظ کے تحت ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا جنسی تعلق—even اگر وہ بظاہر رضامند نظر آئیں—قانونی طور پر ناقابلِ قبول ہے، اور بڑا فرد مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اسے سزا دی جاتی ہے۔
 
 
مزید پڑھنے کے لیے:
 
جرمنی میں جنسی تشدد اور جرائم (حصہ دوم)
More in this category(4)